تحریر: مولانا شیخ محمد عسکری نگری
حوزہ نیوز ایجنسی| آج 13 فروری 2026 اسلام آباد کے سیکٹر جی-سکس ٹو میں واقع امام بارگاہ اثنا عشری میں منعقدہ نمازِ جمعہ ایک مذہبی اجتماع سے بڑھ کر ایک اجتماعی شعور کی علامت بن گئی۔ نمازِ جمعہ کی امامت استاد العلماء علامہ شیخ محمد شفاء نجفی نے کی جبکہ آپ کی اقتداء میں ملت جعفریہ پاکستان کے رہنماؤں اور صفِ اول کے علماء نے شرکت کی۔ یہ اجتماع محض عبادت کا منظر نہ تھا بلکہ ایک فکری وحدت اور اجتماعی درد کی ترجمانی بھی کر رہا تھا۔
نماز کے بعد جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ اسلام آباد میں گزشتہ جمعہ کو ہونے والے سانحۂ دھماکہ کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی سے جید علماء نے خطاب کیا اور اسے خالص ملت جعفریہ کی جانب سے منعقد کیا گیا اجتماع قرار دیا گیا، جس میں مختلف انجمنوں، تنظیموں اور متنوع سماجی و نسلی پس منظر رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ یہ شرکت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ مذہبی شناخت سے بالاتر ہو کر شہری تحفظ اور آئینی حقوق کا مسئلہ اب ایک وسیع تر قومی بحث کا تقاضا کر رہا ہے۔
اس موقع پر دو بنیادی نکات نمایاں ہو کر سامنے آئے: پہلا نکتہ ریاستی ذمہ داری کے حوالے سے تھا۔ آئینِ پاکستان ہر شہری کو جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر کسی مخصوص مذہبی گروہ کو بار بار دہشت گردی کا سامنا ہو اور موثر تدارک نظر نہ آئے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ریاستی نظم و نسق اپنی آئینی ذمہ داریوں کو کس حد تک ادا کر رہا ہے۔ اس تناظر میں سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر تنقیدی جائزہ لینا جمہوری معاشروں میں ایک جائز اور ضروری عمل سمجھا جاتا ہے۔
دوسرا نکتہ نفرت انگیز تقاریر اور تکفیری بیانیے کے کھلے اظہار سے متعلق تھا۔ کسی بھی شہری یا مذہبی گروہ کو کافر قرار دینا، اس کے خلاف اشتعال انگیزی کرنا یا اسے سماجی طور پر دیوار سے لگانے کی کوشش کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر مذموم ہے بلکہ قانونی اور آئینی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ اگر ایسے عناصر کو کھلی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے تو اس سے ریاستی غیر جانبداری پر سوالات جنم لیتے ہیں۔ تاہم ان سوالات کا جواب ادارہ جاتی تحقیق، شفافیت اور قانون کی عملداری کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے، نہ کہ قیاس آرائی یا الزام تراشی سے۔
احتجاجی ریلی کے مطالبات میں ایک اہم مطالبہ یہ تھا کہ “شیعہ کافر” یا کسی بھی مذہبی گروہ کے خلاف نفرت انگیز نعرے اور ہرزہ سرائی کو باقاعدہ قانونی جرم قرار دیا جائے اور اس پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ یہ مطالبہ دراصل اس وسیع تر اصول کی توسیع ہے کہ نفرت انگیزی، تکفیر اور فرقہ وارانہ اشتعال کو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے تاکہ معاشرہ خانہ جنگی یا داخلی انتشار کی طرف نہ بڑھے۔
ایک علمی اور سنجیدہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان جیسے کثیر المذاہب اور کثیر المسالک معاشرے میں پائیدار امن کی بنیاد تین اصولوں پر قائم ہو سکتی ہے: 1۔ آئین کی بالادستی اور بلاامتیاز قانون کا نفاذ۔ 2۔ نفرت انگیز تقاریر اور تکفیری بیانیے کے خلاف واضح اور غیر مبہم قانونی اقدام۔ 3۔ بین المسالک مکالمہ اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ریاستی سرپرستی میں سنجیدہ اقدامات۔
اگر ریاست ان اصولوں کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو نہ صرف مذہبی حلقوں میں ہی بلکہ پورے معاشرے میں اعتماد کی فضا بحال ہو سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کی فضا کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد کی اس ریلی کو محض ایک احتجاجی سرگرمی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اجتماعی پیغام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ایک ایسا پیغام جو آئینی تحفظ، قانونی مساوات اور پرامن بقائے باہمی کا مطالبہ کرتا ہے۔ قومی استحکام کا راستہ الزام اور تصادم سے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، شفاف احتساب اور مکالمے سے ہو کر گزرتا ہے۔









آپ کا تبصرہ